ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلورو میں ہورڈنگس کی تعداد کا کوئی حساب کتاب بی بی ایم پی کے پاس نہیں،کونسل میٹنگ میں افسروں کی لاپروائی پر ممبران برہم

بنگلورو میں ہورڈنگس کی تعداد کا کوئی حساب کتاب بی بی ایم پی کے پاس نہیں،کونسل میٹنگ میں افسروں کی لاپروائی پر ممبران برہم

Mon, 13 Aug 2018 22:51:24    S.O. News Service

بنگلورو،13؍اگست(ایس او نیوز)شہر میں برہت بنگلور مہانگر پالیکے کے پاس یہ حساب کتاب نہیں ہے کہ کتنے ہورڈنگس لگے ہیں اور ان میں سے کتنے لائسنس یافتہ ہیں اور کتنے غیر قانونی ۔

آج بی بی ایم پی کی خصوصی کونسل میٹنگ میں یہ معاملہ سامنے آیا۔ پارٹی امتیازات سے بالا تر ہوکر کارپوریٹروں نے افسروں کی اس لاپروائی کی سخت مذمت کی اور کہاکہ شہر کے آٹھوں ڈویژنوں میں ایسی ہی صورتحال ہے، کسی بھی ڈویژن میں یہ اعداد وشمار نہیں ہیں کہ بی بی ایم پی نے کتنے ہورڈنگس کو لائسنس دئے ہیں اور کتنے غیر قانونی طور پر موجود ہیں۔ ان ہورڈنگوں سے بی بی ایم پی کو کتنی آمدنی ہورہی ہے اس کا حساب کتاب بھی افسروں کے پاس موجود نہیں ۔ حال ہی میں فلیکس اور بینر ہٹانے کے معاملے میں بی بی ایم پی کو آڑے ہاتھوں لئے جانے کے بعد آج کونسل میٹنگ میں اس موضوع پر اٹھائے گئے سوال کے جواب میں افسروں کے پاس کوئی تفصیل موجود نہیں تھی۔

اپوزیشن لیڈر پدمانابھا ریڈی نے افسروں سے جاننا چاہا کہ شہر میں کتنے ہورڈنگس ہیں جن کو بی بی ایم پی نے باقاعدہ لائسنس دیا ہے اس کے علاوہ کتنے غیر قانونی ہورڈنگوں کی نشاندہی کرکے انہیں ہٹانے کے لئے کارروائی کی گئی ہے۔ پدمانابھاریڈی نے کہا کہ ہائی کورٹ میں جو سماعت چل رہی ہے وہ اپنی جگہ ، انہوں نے جو سوال کیا ہے اس کا سماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ افسروں کے پاس یہ جانکاری تو ہونی ہی چاہئے کہ شہر میں باضابطہ ہورڈنگوں کے لئے کتنے لائسنس جاری کئے گئے ہیں اور ان سے بی بی ایم پی کو کتنی آمدنی ہورہی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ای میل کے ذریعے انہیں جواب دیاگیا ہے کہ شہر میں دس ہزار ہورڈنگس ہیں جبکہ بی بی ایم پی نے صرف ڈھائی ہزار ہورڈنگوں کے لئے 2013 سے 2015 تک لائسنس جاری کیا تھا، ان کی طرف سے کروڑ وں کی رقم باقی رہنے کے سبب ان کے لائسنسوں کی بھی تجدید نہیں کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایاکہ اس وقت ہورڈنگس لائسنس یافتہ گان سے 47 کروڑ روپیوں کی رقم باقی تھی اب تک یہ وصول نہیں کی گئی۔پدمانابھا ریڈی نے کہاکہ دو ہزار کروڑ روپیوں تک کی دھاندلی صرف ہورڈنگس کے لائسنسوں میں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اشتہاروں کے ذریعے بی بی ایم پی کو جو آمدنی ہوسکتی تھی، ا س سے بی بی ایم پی کو محروم کرنے میں افسر کافی حد تک ذمہ دار ہیں۔ اس مرحلے میں کانگریس کارپوریٹرگنا شیکھر نے بھی کہا کہ 2016میں انہوں نے اس سلسلے میں سوال کیا تھا ، اب تک افسروں نے اس کا جواب نہیں دیا ہے۔ سابق میئر جی پدماوتی نے بھی اس معاملے میں افسروں کے رویے پر نکتہ چینی کی ہیں۔ 


Share: